کس کو سمجھاؤں بھلا مجھ کو جو یار افسوس ہے




کس کو سمجھاؤں بھلا مجھ کو جو یار افسوس ہے
منتظر تیرا ہوں میں اور انتظار افسوس ہے
ایک بس تیرے نہ ہونے سے جہان خاک میں
بے پناہ افسردگی ہے بے کنار افسوس ہے
یہ ریاست عشق کی ہے اس کے ہیں اپنے اصول
بے قراری اس جگہ نعمت قرار افسوس ہے
وہ مریض عشق ہوں روز ازل سے میں جمال
جس کی حالت پر مسیحا کو ہزار افسوس ہے
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں