اک قرض ہے اتار رہے ہیں کسی طرح




اک قرض ہے اتار رہے ہیں کسی طرح
اس عمر کو گزار رہے ہیں کسی طرح
خالی دریچہ دیکھ کے لکنت زباں میں ہے
لیکن تجھے پکار رہے ہیں کسی طرح
دنیا کو بھی کسی طرح نزدیک کر لیا
اور نفس کو بھی مار رہے ہیں کسی طرح
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں