سچ بولنا عوام کو جس نے سکھا دیا




سچ بولنا عوام کو جس نے سکھا دیا
سولی پہ ظالموں نے اس بھی چڑھا دیا
بے شک میں تھا نشے میں مگر اتنا ہوش تھا
آپس میں لڑ رہے تھے جو ان کو ملا دیا
مقتل میں رات سچ کی گواہی کے واسطے
اس نے لہو کا آخری قطرہ بہا دیا
ظالم نے پھر بھی لوٹ لی مفلس مکی آبرو
اس نے خدا رسول کا بھی واسطہ دیا
مفلس نے کچھ کیا نہیں رزاق سے گلہ
بچوں کو اپنے آج بھی بھوکا سلا دیا
شہر سخن میں بس وہی میرا حریف ہے
قامت نے میری خود جسے بونا بنا دیا
عارف شفیق کوئی نہ آگے نکل سکا
میں نے ہر آنے والے کو خود راستہ دیا
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں