ہر ستارے کا مقدر ٹوٹتا تھا




ہر ستارے کا مقدر ٹوٹتا تھا
آسماں بچوں کی طرح رع رہا تھا
اتنی مہنگائی تھی بس میں کہ ہر شخص
اپنے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
ایسی بولی لگ رہی تھی بادشہ کی
مجھ سے وہ منظر نہ دیکھا جا رہا تھا
تشنگان عشق مل کر رو رہے تھے
ایک دریا سستے داموں بک رہا تھا
ایک گھر میں چار آنکھیں جل رہی تھیں
شہر سارا نیند میں ڈوبا ہوا تھا
اتنا عادی ہو گیا تھا میں مرض سے
دل دوا کے نام سے ڈرنے لگا تھا
سب کو اپنی اپنی پڑنے لگ گئی تھی
درمیاں اک شخص ایسا آگیا تھا سیر کی خاطر وہ نکلا اور اس نے
اپنی جیبوں میں گلستاں بھر لیا تھا
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں