نشے کی لہر طاری ہو رہی ہے




نشے کی لہر طاری ہو رہی ہے
مری آواز بھاری ہو رہی ہے
رقیبوں پر عنایت بر سر بزم
بہت خاطر ہماری ہو رہی ہے
سبھی میرے مرض کو کوستے ہیں
یہ کیا تیمار داری ہو رہی ہے
چمن کا راستہ مت گھیر کر بیٹھ
خفا باد بہاری ہو رہی ہے
سب اپنے اپنے گھر میں مطمئن ہیں
مجے کیوں بے قراری ہو رہی ہے
گلی کے ایک گھر میں عید کے روز
یہ کیسی آہو زاری ہو رہی ہے
سنا ہے اس گلی سے عاشقوں کی
نئی فہرست جاری ہو رہی ہے
جو آئے پوچھتا ہے عمر میری
عجب تیمار داری ہو رہی ہے
کہاں جائیں پرانے لوگ تیرے
نئی عاشق شماری ہو رہی ہے
مرے پہلو میں وہ ہے اور مجھ پر
عجب وحشت سی طاری ہو رہی ہے
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں