رہنا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر




رہنا نہیں اگرچہ گوارا زمین پر
لیکن اک آدمی ہے ہمارا زمین پر
بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھانے کو گم نہیں
ٹوٹے ہوئے دیے کا کنارا زمین پر
اس کی نظر بدلنے سے پہلے کی بات ہے
میں آسمان پر تھا ستارا زمین پر
باقی تو جو بھی کچھ ہے اضافی ہے سب یہاں
اک آنکھ ہے اور ایک نظارا زمین پر
دیکھا نگاہ بھر کے مجھے اس نے پھر جمال
روشن کیا چراغ دوبارا زمین پر
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں