یہ شہر اپنے حریفوں سے ہارا تھوڑی ہے




یہ شہر اپنے حریفوں سے ہارا تھوڑی ہے
یہ بات سب پہ مگر آشکارا تھوڑی ہے
ترا فراق تو رزق حلال ہے مجھ کو
یہ پھل پرائے شجر سے اتارا تھوڑی ہے
جو عشق کرتا ہے چلتی ہوا سے لڑتا ہے
یہ جھگڑا صرف ہمارا تمہارا تھوڑی ہے
در نگاہ پہ اس کے جو ہم نے عمر گنوائی
یہ فائدہ ہے مری جاں خسارہ تھوڑی ہے
یہ لوگ تجھ سے ہمیں دور کر رہے ہیں مگر
ترے بغیر ہمارا گزارا تھوڑی ہے
جمال آج تو جانے کی مت کرو جلدی
کہ پھر نصیب یہ صحبت دوبارہ تھوڑی ہے
جمال احسانی




اپنا تبصرہ بھیجیں