سر اٹھائے ہوئے مقتل کی طرف جاؤں گا




سر اٹھائے ہوئے مقتل کی طرف جاؤں گا
میں نے سچ بات کہی ہے تو سزا پاؤں گا
اور کچھ دے نہ سکوں گا میں اگر ورثے میں
اپنی اولاد کو سچائی تو دے جاؤں گا
تو نے جو بات کہی ہے ابھی تنہائی میں
تو وہ منبر سے کہے گا بھی تو جھٹلاؤں گا
انہی ہاتھوں سے اگائی ہین ہزاروں فصلین
بھوکا مرجاؤں گا یہ ہاتھ نہ پھیلاؤں گا
منفرد لہجے میں لکھوں گا خیالا ت نئے !
آنے والوں کو نئی راہ دکھا جاؤں گا !
رات کو دیر سے گھر آنے لگا ہے عارف
مجھ سے وہ جب بھی ملے گا تو میں سمجھاؤں گا
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں