ظلم و ستم کی تصویریں ہیں رستے رستے لوگ




ظلم و ستم کی تصویریں ہیں رستے رستے لوگ
ویراں لہجے اجڑے چہرے سہمے سہمے لوگ
سارے چہرے زرد ملے اور دل بھی مر جھائے
کہاں گئے وہ پھولوں جیسے مہکے مہکے لوگ
ایک اگر ہوں بن جائیں گے فولاد دیوار
خود میں جو سمٹے بیٹھے ہیں بکھرے بکھرے لوگ
روز و شب کی چکی میں کیوں پستے ہیں دن رات
اپنی زمیں پر بے گھر کب سے اکھڑ ے اکھڑے لوگ
جن سے خوشیاں روٹھ گئیں تھیں اور امیدیں ٹھوٹ گئیں
مجھ ہی سے کیا خود سے بھی تھے روٹھے روٹھے لوگ
وہم کی دستک سے چونک اٹھے کیسے گھبرا کر
انجانے اک خوف سے خود میں سمٹے سمٹے لوگ
عہد رفتہ کے خوابوں میں کھوئے کھوئے سے
بھٹکی سوچوں کی ڈوری میں الجھے الجھے لوگ
تیری حقیقت رفتہ رفتہ خود کھل جائے گی
سمجھیں گے کردار کو تیرے جیسے لوگ
ذہنوں میں تھے کرب کے جالے اور چہروں پر گرد
اندھیاروں میں بھٹک رہے تھے بہکے بہکے لوگ
آنے والی کل کے اجلے دل میں خواب لیے
صبح سویرے گھر سے نکلے نکھرے نکھرے لوگ
اک دن میں کیا بدلے عارف برسوں پرانی سوچ
وقت جو بدلا خود بدلیں گے ویسے ویسے لوگ
عارف شفیقؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں