بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا




بہت دل کو کشادہ کر لیا کیا
زمانے بھر سے وعدہ کر لیا کیا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی
تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا
ہنر مندی سے اپنی دل کا صفحہ
مری جاں تم نے سادہ کر لیا کیا
جو یکسر جان ہے اس کے بدن سے
کہو کچھ استفادہ کر لیا کیا
بہت کترا رہے ہو مغبچوں سے
گناہ ترک بادہ کر لیا کیا
یہاں کے لوگ کب کے جا چکے ہیں
سفر جادہ بہ جادہ کر لیا کیا
اٹھایا اک قدم تو نے نہ اس تک
بہت اپنے کو ماندہ کر لیا کیا
تم اپنی کج کلاہی ہار بیٹھیں
بدن کو بے لبادہ کر لیا کیا
بہت نزدیک آتی جا رہی ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
جون ایلیا




اپنا تبصرہ بھیجیں