یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری




یہ جو سنا اک دن وہ حویلی یکسر بے آثار گری
ہم جب بھی سائے میں بیٹھے دل پر اک دیوار گری
جوں ہی مڑ کر دیکھا میں نے بیچ اٹھی تھی اک دیوار
بس یوں سمجھو میرے اوپر بجلی سی اک بار گری
دھار پہ باڑ رکھی جائے اور ہم اس کے گھائل ٹھہریں
میں نے دیکھا اور نظروں سے ان پلکوں کی دھار گری
گرنے والی ان تعمیروں میں بھی ایک سلیقہ تھا
تم اینٹوں کی پوچھ رہے ہو مٹی تک ہموار گری
بے داری کے بستر پر میں ان کے خواب سجاتا ہوں
نیند بھی جن کی ٹاٹ کے اوپر خوابوں سے نادار گری
خوب ہی تھی وہ قوم شہیداں یعنی سب بے زخم و خراش
میں بھی اس صف میں تھا شامل وہ صف جو بے وار گری
ہر لمحہ گھمسان کا رن ہے کون اپنے اوسان میں ہے
کون ہے یہ؟ اچھا تو میں ہوں لاش تو ہاں اک یار گری
جون ایلیا




اپنا تبصرہ بھیجیں