دشت اجنبیت میں




دشت اجنبیت میں
آشنائی کی چھاؤں
ساتھ چھوڑ جائے تو
ہر طرف بگولوں کا
رقص گھیر لیتا ہے
دشت اجنبیت میں
آشنائی کی چھاؤں
ساتھ چھوڑ جائے تو
یاس گھیر لیتی ہے
آس کے جزیرے کو
اور اس جزیرے کو
کب کسی نے دیکھا ہے
دشت اجنبیت میں
آشنائی کی چھاؤں
ساتھ چھوڑ جائے تو
بادلوں کے سائے بھی
سرگراں سے رہتے ہیں
زندگی کے چہرے سے
رنگ روٹھ جاتے ہیں
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں