نیا انسان لکھا جا رہا ہے




نیا انسان لکھا جا رہا ہے
بصد امکان لکھا جا رہا ہے
عجب اک سانحہ ہے میرے گھر میں
مجھے مہمان لکھا جا رہا ہے
جو نادانی میں ہم سے ہو رہا ہے
وہ سب نقصان لکھا جا رہا ہے
وہی جو واقف راز دروں ہے
اسے انجان لکھا جا رہا ہے
نئی تاریخ کے پردے میں شاید
نیا بحران لکھا جا رہا ہے
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں