جب موسم گل آیا




جب موسم گل آیا
ہر بار یہی سوچا
ہر بار قسم کھائی
اس بار نہ روئیں گے
دامن نہ بھگوئیں گے
اے معنی گل لیکن
جب موسم گل آیا
معصوم شگوفوں کی
معصوم اداؤں نے
مجبور بنا ڈالا
ہر بار رلا ڈالا
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں