شجر نہ بیچ کوئی سائبان رہنے دے




شجر نہ بیچ ، کوئی سائبان رہنے دے
گئے زمانے کا کچھ تو نشان رہنے دے
بسی ہوئی ہیں جو کب سے وہ بستیاں نہ اجاڑ
یہ خواہشوں کی نمو کے نشان رہنے دے
میں اب کی بار کسی سے مدد نہ مانگوں گا
بھنور کے رخ پہ مرا بادبان رہنے دے
نہ چھین مجھ سے مرے روز و شب کے ہنگامے
میں جی رہا ہوں مجھے اتنا مان رہنے دے
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں