سفر میں اتنے سراب کیوں ہیں




سفر میں اتنے سراب کیوں ہیں
کبھی کبھی اک عجیب الجھن میں ڈال دیتی ہے سوچ
کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں
کہاں گئیں وہ ادھورے خوابوں کی پوری راتیں
وہ بیتی باتیں وہ دل کی گھاتیں
کہاں گیا وہ سفر سہانا
کہ جس پہ ہم تم ہوئے روانہ
کہاں گئے وہ کٹیلے ابرو
سجیلی آنکھیں گھنیرے گیسو
کہاں گئی وہ جواں لبوں کی نشیلی سرخی ، وہ رنگ خوشبو
کہاں وہ معصوم مسکراہٹ
کہ جس کی چاہت حریم دل میں سجی ہوئی تھی
بسی ہوئی تھی
کبھی کبھی اس حریم دل میں
ملال بن کر خیال بن کر سوال بن کر
مری تمنا یہ پوچھتی ہے
یہ آرزو کے عذاب کیوں ہیں
مرے ادھورے سے خواب کیوں ہیں
سفر مین اتنے سراب کیوں ہیں؟
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں