وحشت دل کا اب یہ عالم ہے




وحشت دل کا اب یہ عالم ہے
جو صدا ہے صدائے ماتم ہے
دل کا ہر زخم بھرنے لگتا ہے
تیری آواز ہے کہ مرہم ہے
کب سے پیاسا کھڑا ہوں ساحل پر
اک عجب تشنگی کا عالم ہے
یہ بھی پہچان اب تو مشکل ہے
گم دنیا ہے یا ترا غم ہے
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں