وفا کا جوہر گنوا نہ دینا خیال رکھنا




وفا کا جوہر گنوا نہ دینا خیال رکھنا
یہ بات میری بھلا نہ دینا خیال رکھنا
یہ دل کا صحرا ہے، پیاس بجنے میں وقت لے گا
تمام آنسو بہا نہ دینا خیال رکھنا
جو رنگ ساحل پہ مرنے والے نے لکھ دیا ہے
مچلی لہرو ! مٹا نہ دینا خیال رکھنا
ابھی میں پتھر میں اپنا چہرہ تلاش کر لوں
ابھی مجھے آئنہ نہ دینا خیال رکھنا
ابھی اندھیروں کا راج رہنا ہے زندگی میں
چراغ ہستی بجھا نہ دینا خیال رکھنا
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں