تیرہ و تاریک لمحوں کے فسانے ختم ہیں




تیرہ و تاریک لمحوں کے فسانے ختم ہیں
وہ کہ خورشید فراست ہام تاباں آگیا
ؒ جس کی خاطر یہ زمین و آسماں پیدا کئے
وہ پیام آخری وہ روح قرآں آگیا
ابن آدم کا وسیلہ بے نواؤں کا غرور
آدمیت کا سویرا حق کا ساماں آگیا
وہ گلل مہتاب اپنی ضو فشانی کے لئے
عکس وحدت سے نکل کر سوئے انساں آگیا
مرکز تہذیب عالم علم و عرفان و شعور
ہاں وہی امی لقب تلمیذ یزداں آگیا
کرامت بخاری




اپنا تبصرہ بھیجیں