پھر اعتبار شب میں گھلے زندگی کی شام




پھر اعتبار شب میں گھلے زندگی کی شام
موج ہوائے تازہ بنے زندگی کی شام
تازہ رفاقتوں کی مہک سے کھلے بدن
خوابوں کی خوشبوؤں سے سجے زندگی کی شام
معلوم ہے یہ سحر گھڑی دو گھڑی کا ہے
پھر بھی کہو، سنبھل کے چلے زندگی کی شام
جو بوند خوں بھی جسم میں تھا، صرف غم ہوا
اب اور غم بھی دو کہ بڑھے زندگی کی شام
دیکھا جو آئنہ تو بدن گونجنے لگا
ایسے ڈرا رہی ہے مجھے زندگی کی شام
شاید کہ کوئی خانماں برباد ٹھیر جائے
زنجیر دل ہلاتی چلے زندگی کی شام
پھولوں کے آنچلوں میں تو تتلی کے رنگ ہیں
بانہوں کی کیاریوں میں سجے زندگی کی شام
گہرا ہے آج درد کی پروا کا گھاؤ بھی
ناپید جاں گسل ہے پہ ہے زندگی کی شام
کشور ناہید




اپنا تبصرہ بھیجیں