کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ہے




کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ہے
فقیہہ شہر سفینہ بدست چلتا ہے
وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھا
انہی میں منزل جاں کا سراغ ملتا ہے
اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہارو
زوال شام سے منظر نیا نکلتا ہے
مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ہے
یہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ہے
شکست ساعت جاں، ورثہ زمیں تو نہیں
بھنور کا پاؤں سواد سفر نکلتا ہے
ہزیمنوں کی صلیبوں کو شب چراغ کرو
گلی گلی میں خموشی کواڑ پیٹے ہے
یہ کون ہے جو نئی کونپلیں مسلتا ہے
مری زباں پہ کوئی ذائقہ ٹھہر نہ سکا
کہ مجھ میں اور پیرہن بدلتا ہے
کشور ناہید




اپنا تبصرہ بھیجیں