ابھی موسم نہیں بدلا




ابھی موسم نہیں بدلا
ابھی شادابیوں نے صبح کا آنگن نہیں دیکھا
ابھی دوار و در سے خوف کے سائے نہیں سمٹے
ابھی حیلہ فروشی مکتب خواہش میں ٹھہری ہے
ابھی بھولی نہیں وہ داستاں جو ہم پہ گزری ہے
ابھی موسم نہیں بدلا
زباں بندی کے صحرا سے نکل تو آئے ہولیکن
سخن کے شعلہ تائید کو ارزاں نہیں کرتے
نئے موسم کو حرف شوق کا عنواں نہیں کرتے
وہ موسم
جس میں تازہ کو نپلیں ڈر کے نکلتی تھیں
ہر اک گھر اور ہر دہلیز پر پہرہ خزاں کا تھا
دعا کے بادباں پہ نام بھی نام گماں کا تھا
وہ موسم جس میں عفریت ہزیمت راج کرتا تھا
وہ کیا آسیب تھا جو اپنی گلیوں سے گزرتا تھا
کہ اب دیوار و در سے کوف کے سائے سمیٹے جائیں
کہ اب شادبیاں ٹھہر یں
کہ اب موسم بد جائے
کشور ناہید




اپنا تبصرہ بھیجیں