چند رفیق مطمئن چند حریگ دنگ بھی




چند رفیق مطمئن چند حریگ دنگ بھی
ایک فریب صلح بھی ایک فریب جنگ بھی
عکس بہ عکس آزری سطر پہ سطر ساحری
ایک طلسم لفظ بھی ایک طلسم رنگ بھی
ہم سے قیامتیں چلیں ہم سے ملامتیں چلیں
ہم ہی غبار بے نشاں ہم ہی شکار سنگ بھی
تیرگیاں پلٹ گئیں روشنیاں سمٹ گئیں
روپ کی دھوپ میں کھلے رات کے رنگ ڈھنگ بھی
وحشت عشق بھی وہی، دہشت عشق بھی وہی
تجھ سے پرے پرے بھی ہم، ہم ترے سنگ سنگ بھی
پیار سے غم کی آبرو، آنکھ سے نم کی آبرو
ہاتھ کے ہاتھ تل گیا دھات کے ساتھ زنگ بھی
الاکھ عذاب اک طرف ، ایک شباب اک طرف
سیل ہوس میں بہہ گئے عشق بھی نام و ننگ بھی
کوئی ستم نیا نہیں کوئی کرم نیا نہیں
مرکو التفات بھی، جاں، ہدف خدنگ بھی
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں