ابھی پھول چن رہے ہیں ابھی انگلیا ں لہوہیں




ابھی پھول چن رہے ہیں ابھی انگلیا ں لہوہیں
ترے یار کار فرما سر قریہ نمو ہیں
ابھی نذر غم بھریں گے اتر ذکر بھی کریں گے
ابھی ہم پگھل رہے ہیں ابھی ہم گراں گلو ہیں
ابھی کچھ نہ بن پڑے گا پس دفن رن پڑے گا
ابھی ہچکیاں بندھی ہیں ابھی دل لہو لہو ہیں
ترا غم غزل نہ ہو گا کہ لہو میں حل نہ ہوگا
ابھی اس لہو میں تیرے سن و سال آرزو ہیں
ترے درد کیا کہیں گے ترے رنج کیا سہیں گے
گل ظرف ریک رو ہے، گل حرف کم نمو ہیں
ابھی نظم ڈھل رہی ہے ابھی سطر چل رہی ہے
ابھی تار کار نقیں ، تہ پنبہء رفو ہیں
وہی مے نژاد آنکھیں ہی ہجر زاد آنکھیں
وہی مے چہک رہی ہے وہی کوزہ و سبو ہیں
سبھی محفلیں جمی ہیں سبھی گردشیں تھمی ہیں
کوئی ماتمی نہیں ہے ترے یار سرخرو ہیں
رہے یونہی تا قیامت ترا فن کشیدہ قامت
کہ ترے سخن سے بڑھ کر ترے غم نیاز خو ہیں
ترے ہم جمال منذر، ترے ہم ملال منذر
ابھی فائز ، سخن ہیں ابھی زیب گفتگو ہیں
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں