گیت سے گیت کی بالی پھوٹی، دانے دانوں سے نکلے




گیت سے گیت کی بالی پھوٹی، دانے دانوں سے نکلے
سنگ کی قید سے چھوٹے چشمے، تیر کمانوں سے نکلے
دروازوں نے آنکھیں جھپکیں آوازوں نے پٹ کھولے
کیسے جمیل جلیل دن آئے، چان مکانوں سے نکلے
نکتہ نکتہ کتاب ہوئے ہیں نکتہ نکتہ دیکھ ہمیں
کیسے کیسے گل کس رت میں کتنے بہانوں سے نکلے
کتنی صبحیں کالی کر دیں، کتنے بال سفید کیے
خون کی آگ میں جلتے کاغذ آتش دانوں سے نکلے
نیندوں نیندوں دن ہو جائیں جاتگتے فاگتے سا جائیں
شام اذانوں کی رہ دیکھے دن بھی اذانوں سے نکلے
بوند نے اپنی مٹھی کھولی ، چاروں طرف پر بھیل گئے
ایک پرندہ ٹھٹکا ، بھڑ کا، رنگ اڑانوں سے نکلے
آج تو آج کے دکھ کافی ہیں، کل کے چھل کل دیکھیں گے
کیسے کیسے رہری جملے گنگ زبانوں سے نکلے
نئے گھڑے کی مٹی تھے ہم، ایک ہی لہر میں لہر ہوئے
ہم سے شراب چناب کے کھیوے کب مے خانوں سے نکلے
سورج خوشبو ہو جائے گا چاند لہو ہو جائے گا
کھلیانوں کی بات نہ جانے کب کھلیانوں سے نکلے
کس کے گھر کی چمنی دن بھر کتنا دھواں اگلتی ہے
پیٹ کا ایندھن بننے ، بچے کوہستانوں سے نکلے
ہر پتھر میں ایک ہی صورت، ہر صورت میں ایک ہی روپ
اللہ اللہ کرتے خالد سب بت کانوں سے نکلے
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں