رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے




رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے
اک خوشبو پھولوں مین کیا کیا رنگ بھرے
فن کی اپنی موج دکھوں کی اپنی رد
اک ترکش میں کوئی کتنے خدنگ بھرے
کون لکیروں کو تصویروں مین ڈھالے
کس کا لہو یہ خاکے یہ نیرنگ بھرے
فنگ لباس کو رنگ بدن سے آب ملے
گنگ حروف مین مغموں کا آہنگ بھرے
کس کی آنکھیں تہمت لمس اٹھائیں گی
بجلی کے تن میں ہیں کس کے رنگ بھرے
پولے پولے پاؤں دھرے پروائی بھی
خاک مین اڑتے رنگ یہ کس کے سنگ بھرے
کاہش کا دریا بھی خواہش کا گھر تھا
پانی بھرنے آئے اور نہنگ بھرے
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں