روپ کو دھن جانا تو من میں لوبھ گھنیرا پھیل گیا




روپ کو دھن جانا تو من میں لوبھ گھنیرا پھیل گیا
دریا دریا صحرا صحرا دامن میرا پھیل گیا
اے تاروں کے بکھراوے اے نور بھری بے ترتیبی
کس کا ہاتھ پکڑ لو ں جا کر دن بہتیرا پھیل گیا
شام کے طاق مین بولتی چڑیا، کنج چراغ میں لرزاں لو
کس کے عزم کی تکبیر یں ہیں ، کیسا سویرا پھیل گیا
آدھا گھر اک سورج گھر تھا آدھا گھر اک کا جل گھر
بھادوں کے بادل کا سایہ بن کے اندھیرا پھیل گیا
تیز ہوا کے پیچھے پیچھے مہکاروں کے لشکر تھے
کون وہ پھول تھا جس کو جہاں بھی جس نے بکھیرا پھیل گیا
بوندوں کا بستر تھیں پلکیں، آنکھوں آنکھوں جل تھل تھا
میری باتوں سے سانسوں تک ساون تیرا پھیل گیا
گھر سے درد کمانے نکلے، دن کے ساتھ طلوع ہوئے
شام تری تیزی سے اتری اور اندھیرا پھیل گیا
پل کے پل وہ رات آئی جس رات کی بات بھی یاد نہیں
سانجھ تری چھب کے ڈھب گزری اور سویرا پھیل گیا
دم لینے کو جہاں ٹھہرے تھے، وہ منزل کیا منزل تھی
آدم خور درختوں کی باہوں کا گھیرا پھیل گیا
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں