یہ بھید کھلا معرفت شام و سحر سے




یہ بھید کھلا معرفت شام و سحر سے
دن شب سے جدا ہے نہ الگ عیب ہنر سے
ہر لفظ کے ہاتھوں میں تھی اک نرم سی دستک
کہنے کو تو خالی تھے مرے شعر اثر سے
اب تک تری یادیں مری آنکھوں کی چمک ہیں
یہ نم بھی کوئی چھین نہ لے دیدہ تر سے
اے عشق سبھی طعن بہ لب سنگ بہ کف ہیں
اے جاں ترے راہی پہ کہیں پھول نہ برسے
سامان بہم کر کہ نہ لوٹے کبھی خالی
یارب کوئی مجھ بے سر و سامان کے در سے
اک بے خبری مایہ ارباب کبر تھی
یہ بات کھلی حیرت ارباب نظر سے
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں