عمر بھر دکھ رگوں میں بھرتا ہے




عمر بھر دکھ رگوں میں بھرتا ہے
جان لے کر ہی دل ٹھہرتا ہے
شہر مین کون دن نکلنے کا
رات بھر انتظار کرتا ہے
کس گلی سے گزر کے گھر جائیں
دن یہاں دن ڈھلے اترتا ہے
کو بہ کو، سو بہ سو رم جھم
کن رتوں کی وہ بات کرتا ہے
کون تار سکوت سے دم دم
گیت کے روپ میں ابھرتا ہے
ہاتھ اس کا ہوا کے ہاتھ میں ہے
کب وہ پاؤں زمیں پہ دھرتا ہے
انتشار آشنا ، زوال اساس
پھول کھلتا نہیں بکھرتا ہے
حال دل کس طرح کہوں خالد
وہ مرا احترا م کرتا ہے
خالد احمد




اپنا تبصرہ بھیجیں