تمام شہر میں وہ نقش پا تلاش کروں




تمام شہر میں وہ نقش پا تلاش کروں
کہ آنکھ بند رکھوں اور ہوا تلاش کروں
ابھی تو ساری کہانی پس شب غم ہے
طلوع صبح کا عنوان کیا تلاش کروں
ابھی سپاٹ سے رستے پہ چلتا جاتا ہوں
مین کھو چکوں تو کوئی رہنمائی تلاش کروں
نہ سن سکوں کہ سماعت بھی قرض تھی مجھ کو
نہ دیکھ پاؤں تو آنکھوں میں کیا تلاش کروں
خالد شریف




اپنا تبصرہ بھیجیں