کون دیکھے گا ؟




جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
انہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا
اس ایک دن کو جو سورج کی راکھ میں غلطاں
انہی دنوں کی تہوں میں ہے، کون دیکھے گا
اس ایک دن کو جو ہے عمر کے زوال کا دن
انہی دنوں میں نمو یاب کون دیکھے گا
مین روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
مین جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
ہزار چہرے خود آرا ہین کون جھانکے گا
مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا
تڑخ کے گرد کی یہ سے اگر کہیں کچھ پھول
کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا
مجید امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں