ساز فقیرانہ




گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا
نہ مل کے خاک مین گر خاک ہوں تو سونا کیا
فقیر ہیں، دو فقیرانہ ساز رکھتے ہیں
ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا
ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام
زمانے بھر سے ہے کم دل کا ایک کونا کیا
نظام دہر کو تیورا کے کس لئے دیکھیں
جو خود ہی ڈوب رہا ہوں اسے ڈبونا کیا
نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد
جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا
مجید امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں