روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول




روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول ، ارغواں گلاب کے پھول
افق افق پہ زمانوں کی دھند سے ابھرے
طیور ، نغمے، ندی ، تتلیاں، گلاب کے پھول
کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز
گندھے ہوئے بہ خم گیسواں، گلاب کے پھول
خیال یار ! ترے سلسلے نشوں کی رتیں
جمال یار ! تری جھلکیاں گلاب کے پھول
مری نگاہ میں دور زماں کی ہر کروٹ
کہو کی لہر ، دلوں کا دھواں ، گلاب کے پھول
سلگتے جاتے ہیں چپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثال چہرہ پیغمبراں گلاب کے پھول
یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں باہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول
مجید امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں