طلوع فرض




سحر کے وقت دفتر کو رواں ہوں
رواں ہوں، ہمرہ صد کارواں ہوں

چمکتی کار فراٹے سے گزری
غبار رہ نے کروٹ بدلی، جاگا
اٹھا اک دو قدم تک ساتھ بھاگا
پیاپے ٹھوکروں کا یہ تسلسل !
یہی پرواز بھی ، افتادگی بھی
متاع زیست اس کی بھی، مری بھی

گلستاں میں کہیں بھونرے نے چوسا
گلوں کا رس، شرابوں سا نشیلا
کہیں پر گھونٹ اک کڑوا کسیلا
کسی سڑتے ہوئے جوہڑ کے اندر
پڑا اک رینگتے کیڑے کو پینا
مگر مقصد وہی دو سانس جینا

سحر کے وقت دفتر کو رواں ہوں
رواں ہوں، ہمرہ صد کارواں ہوں
مجید امجد




اپنا تبصرہ بھیجیں