مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحے




مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحے
تو نے کس آگ میں جل جل کے گذارے ہوں گے
کبھی لفظوں میں تھکن تو نے سمیٹی ہو گی
کبھی کاغذ پہ فقط اشک اتارے ہوں گے
یہ بھی ممکن ہے کہ گذرا ہو ا لمحہ لمحہ
جس کو میں آج بھی سینے سے لگا رکھتا ہوں
تیرے نزدیک فقط یاد کی پر چھائی ہو
دور کی جیسے تری اس سے شنا سائی ہو
جس طرح دھوپ دسمبر کی دریچے سے لگی
بے ارادہ کہیں آنگن میں اتر آئی ہو
جیسے محفل میں کسی شخص کی تنہائی ہو
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں