میں کون ہوں اے ہم نفساں ، سوختہ جاں ہوں




میں کون ہوں اے ہم نفساں ، سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ سہی خلوتی راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریائے سخن پر
صد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشان
درپے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے
اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
پنجہ ہے مرا پنجہ خورشید میں ہر صبح
میں شانہ صفت سایہ رو زلف بتاں ہوں
اک وہم نہیں بیش مری ہستی موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
خوش باشی و تنزہ و تقدس تھی مجھے میر
اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
میر تقی میر




اپنا تبصرہ بھیجیں