لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید




لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید
بگڑے تھے کچھ سنور گئے شاید
سب پریشاں دلی میں شب گزری
بال اس کے بکھر گئے شاید
اب کہیں جنگلوں میں ملتے نہیں
حضرت خضر مر گئے شاید
لہو آنکھوں میں اب نہیں آتا
زخم اب دل کے بھر گئے شاید
شور بازار سے نہیں اٹھتا
رات کو میر گھر گئے شاید
میر تقی میر




اپنا تبصرہ بھیجیں