سبزان تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی




سبزان تازہ رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
اب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا
جوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیا
مذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں نہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میر
سایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا
میر تقی میر




اپنا تبصرہ بھیجیں