میر ے سنگ مزار پر فرباد




میر ے سنگ مزار پر فرباد
رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو محک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم !
خاک کس دل جلے کی کی برباد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصویر کھینچے ہے بہزاد
میر تقی میر




اپنا تبصرہ بھیجیں