اک بار امحبت ہو جائے




اک بار امحبت ہو جائے
کہنے کو محبت ہے لیکن
اب ایسی محبت کیا کرنی
جو نیند چرالے آنکھوں سے
جو خواب دکھا کر پھولوں کے تعبیر میں کانٹے دے جائے
جو غم کی کالی راتوں سے ہر آس کا جگنو لے جائے
جو خواب سجاتی آنکھوں کو آنسو ہی آنسو دے جائے
جو مشکل کر دے جینے کو جو مرنے کو آسان کرے
وہ دل جو پیار کا مندر ہو وہ یا دوں کو مہمان کرے
اب ایسی محبت کیا کرنی
جو عمر کی نقدی لے جائے اور پھر بھی جھولی خالی ہو
وہ صوورت دل کا روگ بنے جو صورت دیکھی بھالی ہے
جو قیس بنا دے انساں کو جوار انجھا اور فرہاد کرے
اب ایسی محبت کیا کرنی جو خوشیوں کو برباد کرے
دیکھو تو محبت کے بارے ہر شخص یہی کچھ کہتا ہے
سوچو تو محبت کے اندر اک درد ہمیشہ رہتا ہے
پھر بھی جو چیز محبت ہے کب ان باتوں سے ڈرتی ہے
کب ان کے باندھے رکتی ہے
جس دل میں اس کو بسنا ہو یہ چپکے سے بس جاتی ہے
اک بار محبت ہو جائے
پھر چاہے جینا مشکل ہو یا جھولی خالی رہ جائے
یا آنکھیں آنسو بن جائیں
یا رانجھا اور فرہاد کرے
پھر اس کی حکعمت ہو تی ہے
آباد کرے برباد کرے
اک بار محبت ہو جائے
کب ان باتوں سے ڈرتی ہے
کب ان کے باندھے رکتی ہے
جس دل میں اس کو بسنا ہو یہ چپکے سے بس جاتی ہے
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں