عمر بھر ہم رہے شرابی سے




عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دل پر خوں کی اک گلابی سے
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
ان کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
کام تھے عشق میں بہت سے میر
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے
میر تقی میر




اپنا تبصرہ بھیجیں