غموں کی خوشی مار ڈالے گی اک دن




غموں کی خوشی مار ڈالے گی اک دن
یہ دیوانگی مار ڈالے گی اک دن
میں سوچوں نہ سوچوں، میں چاہوں نہ چاہوں
یہی بے بسی مار ڈالے گی اک دن
جو بچتا رہا موت سے ہر قدم پر
اسے زندگی مار ڈالے گی اک دن
مری زندگی میں تمہاری کمی ہے
مجھے یہ کمی مار ڈالے گی اک دن
جسے تپتے سورج سے ٹھنڈ ک ملی ہے
اسے چاندنی مار ڈالے گی اک دن
اسی ڈر سے میں بولتا جا رہا ہوں
مجھے خامشی مار آلے گی اک دن
یہ انگار جگنو سمجھ کر نہ چھونا
یہ سادہ دلی مار ڈالے گی اک دن
غموں کے ہو گاہک ، ہنسی بیچتے ہو
یہ سوداگری مار ڈالے گی اک دن
دکھی ہے تو عاطف تو رو لے خدارا
تجھے یہ ہنسی مار ڈالے گی اک دن
عاطف سعید ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں