مجے چاہے نہ چاہے دل تیرا




مجے چاہے نہ چاہے دل تیرا ، تو مجھ کو چاہ بڑھانے دے
اک پاگل پریمی کو اپنی چاہت کے نغمے گانے دے
تو رانی پریم کہانی کی چپ چاپ کہانی سنتی جا
یہ پریم کی بانی سنتی جا، پریمی کو گیت سنانے دے
یہ چاہت میرا جذبہ ہے میرے دل کا میٹھا نغمہ
ان باتوں سے کیا کام تجھے ان باتوں کو کہہ جانے دے
تو دور اکیلی بیٹھی ہے سکھ سندرتا کی مستی میں
میں دور بہا جاتا ہوں پریم کی ندی میں، بہہ جانے دے
گر بھولے سے اس جذبے کا تو گیت جوابی گا بیٹھی
یہ جادو سب مٹ جائے گا اس کو جو بن پر آنے دے
ہاں جیت میں کوئی نہیں ہے نشہ ، یہ بات ہے جیت سے دوری میں
جو راہ رسیلی چلتا ہوں اس راہ پر چلتا جانے دے
میرا جی




اپنا تبصرہ بھیجیں