لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا میخانہ ہے




لب پر ہے فریاد کہ ساقی یہ کیسا میخانہ ہے
رنگ خان دل نہیں چمکا، گردش میں پیمانہ ہے
مٹ بھی چمکیں امیدیں مگر باقی ہے فریب امیدوں کا
اس کو یہاں سے کون نکالے، یہ تو صاحب خانہ ہے
ایسی باتیں اور سے جاکر کہئے تو کچھ بات بھی ہے
اس سے کہے کیا حاصل جس کو سچ بھی تمہارا بہانہ ہے
طور اطوار انوکھے اس کے، کس بستی سے آیا ہے
پاؤں میں لغز ش کوئی نہیں ہے، یہ کیسا مستانہ ہے
میخانے کی جھلمل کرتی شمعیں دل میں کہتی ہیں
ہم وہ رند ہیں جن کو اپنی حقیقت بھی افسانہ ہے
میرا جی




اپنا تبصرہ بھیجیں