کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں




کوئی قریب نہ آئے شکستہ پا ہوں میں
کرم تو ہے مگر انجام دیکھتا ہوں میں
مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والے
تری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں
زمانہ دیر فراموش تو نہیں اتنا
یہ ٹھیک ہے کہ بہت دیر آشنا ہوں میں
غلط نہیں وہ جو شکوے اب آپ کو ہوں گے
بدل گیا ہے زمانہ بدل گیا ہوں میں
مجھے ستاؤ نہیں زندگی نگاہ میں ہے
فریب کھاؤ نہیں تم کو جانتا ہوں میں
مرا غرور محبت کہ میں نہیں سمجھا
تری نظر نے کہا تھا کہ دلربا ہوں میں
محبوب خزاں ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں