جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں




جنوں سے کھیلتے ہیں آگہی سے کھیلتے ہیں
یہاں تو اہل سخن آدمی سے کھیلتے ہیں
نگار میکدہ سب سے زیادہ قابل رحم
وہ تشنہ کام ہیں جو تشنگی سے کھیلتے ہیں
تمام عمر یہ افسردگان محفل گل
کلی کو چھیڑتے ہیں بے کلی سے کھیلتے ہیں
فراز عشق نشیب جہاں سے پہلے تھا
کسی سے کھیل چکے ہیں کسی سے کھیلتے ہیں
نہا رہی ہے دھنک زندگی کے سنگم پر
پرانے رنگ نئی روشنی سے کھیلتے ہیں
جو کھیل جانتے ہیں ان کے اور ہیں انداز
بڑے سکون بڑی سادگی سے کھیلتے ہیں
خزاں کبھی تو کہوایک اس طرح کی غزل
کہ جیسے راہ میں بچے خوشی سے کھیلتے ہیں
محبوب خزاں ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں