بے چین کیا دل کو غم راحت جاں نے




بے چین کیا دل کو غم راحت جاں نے
کیا پیاس کی تکلیف سہی غنچہ دہاں نے
دنیا سے کیا کوچ عفب سرو رواں نے
لوٹا یہ چمن فصل بہاری میں خزاں نے
ہم خلق سے پہلے نہ سفر کر گئے افسوس
جینے کے جو قابل تھے وہ یوں مر گئے افسوس
کیا کیا یورش فوج ستم دیکھ رہے ہیں
کن تازہ نہالوں کو قلم دیکھ رہے ہیں
دل کو تہ شمشیر و دوم دیکھ رہے ہیں
یہ ظلم ہے اور آنکھوں سے ہم دیکھ رہے ہیں
دنیا غم نوشاہ میں اندھیر ہوئی ہے
کیا جانے مرے مرنے میں کیوں دیر ہوئی ہے
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں