ہر مرغ چمن باغ مین سر گرم فغاں تھا




ہر مرغ چمن باغ مین سر گرم فغاں تھا
سرو لب جو لشکر ماتم کا نشاں تھا
پر سردہ و افسردہ تھا جو پھول جہاں تھا
ہر برگ برنگ دل مسموم تپاں تھا
سر کھولا تھا خاتون جناں نے جو سحر سے
آہوں کا دھواں اٹھتا تھا سنبل کے جگر سے
پھولوں نے گریبانوں کو پھاڑا تھا جو غم سے
گلچن میں اداسی تھی جو اعدا کے ستم سے
سب ڈالیاں جھک جھک گئی تھیں بار الم سے
نرگس تھی بہ حسرت نگراں دیدہ نم سے
ہر مرتبہ سر گرم فغاں ہوتی تھی بلبل
غنچوں کے جگر پھٹتے تھے یوں روتی تھی بلبل
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں