دکھایا ضعف نے زور اپنا




دکھایا ضعف نے زور اپنا ، جب مکاں سے چلے
مثال نبض وہیں رہ گئے جہاں سے چلے
ہوا سخن کے سبب شہر شہر مین شہرہ
جدھر قلم کی طرح ہم چلے زباں سے چلے
لکھی تھی بخت میں گردش جو صورت پرکار
پھر آگئے اسی مرکز پہ ہم ، جہاں سے چلے
حریم حق میں جو پہنچے تو سر اٹھا کے کہا
کدا کی شان کہاں آگئے کہاں سے چلے
بٹھایا ہے مجھے قسمت نے اس سفینے پر
جو ناکدا سے رواں ہو نہ بادباں سے چلے
انیس بھار علائق پہ اور بار گناہ
اٹھا وہ بوجھ جو اس مشت استخواں سے چلے
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں