گناہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے




گناہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجالت سے منہ چھپا کے چلے
مقام یوں ہوا اس کار گاہ دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سر میں آکے چلے
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پاعمال کبھی
چلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے
جنہیں ملا انہیں افتادگی سے اوج ملا
انہوں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے
انیس دم کا بھروسہ نہین ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں